حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،شہدائے چھلگری کی گیارہویں برسی کے سلسلے میں مزارِ شہداء بلوچستان پاکستان میں مجلسِ عزا منعقد ہوئی، جس میں علمائے کرام، مذہبی و سیاسی رہنماؤں، عزاداروں اور شہداء کے عقیدت مندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

مجلس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ شہداء کی یاد منانے کا حقیقی مقصد ان کے مشن کو زندہ رکھنا، معاشرے میں عدل و امن کو فروغ دینا اور پیغامِ حسینیت کو عام کرنا ہے۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ شہدائے چھلگری کی قربانیاں ملتِ جعفریہ کی تاریخ کا روشن باب ہیں۔ شہداء کا خون ہمیں حق، صداقت، استقامت اور مظلوموں کی حمایت کا درس دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین، بالخصوص غزہ میں جاری ظلم و بربریت اور انسانی المیے کے پیشِ نظر پوری دنیا کے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مظلوم فلسطینی عوام کی بھرپور حمایت کریں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ اور یمن کے معصوم بچوں، خواتین اور عام شہریوں کی شہادتیں عالمی ضمیر کے لیے ایک بڑا سوال ہیں۔ عالمی طاقتوں اور انسانی حقوق کے علمبردار اداروں کو دوہرے معیار ترک کرکے فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق، آزادی اور تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ فلسطین کا مسئلہ محض ایک خطے کا معاملہ نہیں، بلکہ انسانی حقوق، انصاف اور حقِ خودارادیت سے وابستہ ہے۔
پاکستان کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ پاکستان کو امتِ مسلمہ کے درمیان اختلافات اور تنازعات میں فریق بننے کے بجائے مصالحت، مذاکرات اور ثالثی کے ذریعے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ یمن اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی یا کسی بھی مسلم ملک کے ساتھ جنگ میں فریق بننے سے پاکستان اور پوری امتِ مسلمہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے، کیونکہ افغانستان کی جنگ میں ملوث ہونے کے نتیجے میں ملک کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا اور دہشت گردی، بدامنی اور عدم استحکام جیسے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسی خارجہ پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو پاکستان کی خودمختاری، قومی مفادات، امن اور علاقائی استحکام کی ضامن ہو۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے فرانس اور دیگر مغربی ممالک میں بڑھتی ہوئی سماجی بے چینی اور احتجاجی تحریکوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور مغربی ممالک کو دوسرے ملکوں میں جنگوں، مداخلتوں اور تباہی کے نتائج سے سبق سیکھنا چاہیے۔ جب سامراجی طاقتیں دوسرے معاشروں میں جنگوں اور عدم استحکام کو ہوا دیتی ہیں تو اس کے اثرات بالآخر عالمی امن، معیشت اور خود ان ممالک کے معاشروں تک پہنچتے ہیں۔ فرانس اور یورپ میں مختلف سماجی، معاشی اور سیاسی مسائل کے باعث ہونے والے احتجاج اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ پائیدار امن طاقت کے استعمال سے نہیں، بلکہ انصاف، مکالمے، انسانی وقار اور عوامی حقوق کے احترام سے قائم ہوتا ہے۔
مجلس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے صوبائی صدر علامہ سہیل اکبر شیرازی نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں ملت کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ہمیں شہداء کے پیغامِ استقامت کو عام کرتے ہوئے ظلم، ناانصافی اور دہشت گردی کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔ یمن کے مظلوم عوام کی حمایت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے مؤثر آواز بلند کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ایم ڈبلیو ایم عزاداری ونگ کے صوبائی صدر علامہ سید ظفر عباس شمسی نے کہا کہ عزاداریِ امام حسینؑ ہمیں حق و باطل میں فرق کرنے، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے اور مظلوموں کا ساتھ دینے کا درس دیتی ہے۔ شہدائے چھلگری کی یاد کو زندہ رکھنا ہماری دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، جبکہ عزاداری کے اجتماعات اتحاد، شعور اور جذبۂ قربانی کو فروغ دیتے ہیں۔
مجلس علمائے مکتب اہل بیت بلوچستان کے صوبائی صدر علامہ ذوالفقار علی سعیدی نے کہا کہ مکتبِ اہل بیتؑ کی تعلیمات عدل، اخوت، انسانیت اور مظلوموں کی حمایت کا پیغام دیتی ہیں۔ علمائے کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں دینی شعور، اتحادِ امت، امن اور رواداری کو فروغ دیں اور نوجوان نسل کو شہداء کی قربانیوں سے آگاہ کریں۔

علامہ علی نواز عرفانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ شہداء کی قربانیاں ہمیں حق کی راہ میں ثابت قدم رہنے اور ظلم و جبر کے سامنے خاموشی اختیار نہ کرنے کا درس دیتی ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم شہداء کے افکار کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائے اور معاشرے میں انصاف و مساوات کے قیام کے لیے کردار ادا کرے۔
علامہ سیف علی ڈومکی نے کہا کہ شہدائے چھلگری کی یاد تازہ کرنا اس عہد کی تجدید ہے کہ ہم امن، اتحاد اور مظلوموں کی حمایت کے مشن کو جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو دہشت گردی کے خاتمے، عوام کے تحفظ اور شہداء کے خاندانوں کی داد رسی کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔
مجلسِ عزا سے مولانا محمد یونس جمالی اور دیگر علمائے کرام نے بھی خطاب کیا۔










آپ کا تبصرہ